بھٹکل یکم جولائی (ایس او نیوز)پچھلے دنوں شہری حدود اور جالی پٹن پنچایت حدود میں مرغی کی دکانوں کا کچرا اٹھانے کے لئے ٹی ایم سی کی طرف سے روزانہ 50 روپے کی جگہ اچانک 200 روپے چارجس طے کیے جانے پر مرغی دکانداروں نے سخت اعتراض جتایا تھا اور کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے کاروبار مندا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ چھوٹی چھوٹی دکان والے صرف کچرا اٹھانے کے لئے ہر مہینہ 6000 روپے کیسے اورکہاں سے ادا کریں۔
دراصل ٹی ایم سی کی طرف سے مرغی دکانوں کا کچرا اٹھا کر لے جانے کی ذمہ داری اڈپی کی ڈیسوزا فیکٹری والوں کو دیا گیا ہے۔ یہ لوگ مرغیوں کی آنتوں دیگر فاضل اجزاء سے کتوں کی غذا تیار کرتے ہیں۔ مگر لاک ڈاون کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد ڈیسوزا کمپنی نے کچرا ڈھونے کے اخراجات میں زبردست اضافہ کیا اور بڑھے ہوئے چارجس ادا نہ کرنے کی صورت میں کچرا ڈھونے سے ہاتھ اٹھا لینے کی بات کہی۔
اس لئے کچرا ڈھونے کے اخراجات کو ٹی ایم سی اور جالی پٹن پنچایت سے لائسنس شدہ 40 سے کچھ زائد مرغی کی دکانوں پر تقسیم کردیا گیا جو ہر ایک دکان کے لئے ماہانہ 6000 روپے بن گیا۔ اس سے مرغی کی دکان والے پریشان ہوگئے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ باضابطہ لائسنس کے بغیر بھی شہر اور پنچایت حدود میں 40/50 مرغی دکانیں اوربھی چل رہی ہیں۔ ان دکانوں سے بھی کچرا نکاسی کا خرچ باقاعدگی وصول کیا جائے گا تو منجملہ تمام دکانوں کا بوجھ ہلکا ہوجائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ ٹی ایم سی کے اکثر کاونسلرس بھی اتنے بڑَے اضافہ کے حق میں نہیں تھے۔
معلوم ہوا ہے کہ اس پس منظر میں بلدیہ صدر پرویز قاسمجی نے ٹی ایم سی اور جالی پٹن پنچایت کے ذمہ داران اور کاونسلرس کے ساتھ ارجنٹ میٹنگ رکھتے ہوئے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی۔ کافی غور وخوض کے بعد طے پایا کہ فی الحال 15 جولائی تک مرغی کی دکانوں سے روزانہ 100 روپے کچرا نکاسی چارج لیا جائے ۔ اس کے بعد پھر ایک باقاعدہ میٹنگ منعقد کرکے حالات اور اخراجات کا پوری طرح جائزہ لینے کے بعد اس پر دوبارہ غور وخوض کیا جائے۔اس طرح پریشان حال دکانداروں کو فی الحال تھوڑی سی راحت پہنچانے کا اقدام کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صدر ٹی ایم سی پرویز قاسمجی نے افسران کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ شہر میں بغیر لائسنس والی جتنی بھی مرغی کی دکانیں چل رہی ہیں ان کی تفصیلات اکٹھا کرنے کی کارروائی پوری کی جائے تاکہ ان دکانوں کو بھی باضابطہ فہرست میں رکھا جا سکے۔